ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اردو اکادمی کے زیرِ اہتمام یومِ آزادی کے موقع پر کل ہند مشاعرہ کا اہتمام

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اردو اکادمی کے زیرِ اہتمام یومِ آزادی کے موقع پر کل ہند مشاعرہ کا اہتمام

Tue, 16 Aug 2016 18:34:40    S.O. News Service

علی گڑھ،16اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اردو اکادمی کے زیرِ اہتمام یومِ آزادی کے مبارک موقع پر کل ہند مشاعرہ کا اہتمام ویمنس کالج آڈیٹوریم میں کیاگیا۔ مسلم یونیورسٹی کے پرو چانسلر نواب ابنِ سعید خاں آف چھتاری نے شمع روشن کرکے مشاعرے کا افتتاح کیا۔ وائس چانسلرلیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ ( ریٹائرڈ) نے اس مشاعرے کی صدارت فرمائی۔جشنِ آزادی اور جشنِ جمہوریہ کے موقع پر شعری نشستوں کا آغاز ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب نے اپنی وائس چانسلر شپ میں اپنی سرکاری رہائش گاہ وائس چانسلر لاج سے کیا تھا اور تبھی سے یومِ آزادی اور جشنِ جمہوریہ کے موقع پر شعری نشستوں کا اہتمام یونیورسٹی کے سرکاری پروگراموں کاحصہ ہے۔ بعد میں شعبۂ اردو کو یہ ذمہ داری دے دی گئی تھی مگر پہلی مرتبہ یونیورسٹی انتظامیہ نے کل ہند مشاعرہ کے انعقاد کا فیصلہ کیا اور اردو اکادمی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر راحت ابرار کو یہ ذمہ داری سونپی گئی جو انہوں نے بحسن و خوبی انجام دی۔کل ہند مشاعرے کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ( ریٹائرڈ) نے کہا کہ دنیا بھر میں اردو زبان کو مقبول بنانے میں شعرائے کرام کا بہت اہم حصہ ہے اور آج مشاعروں کی وجہ سے اردو عوام میں بہت مقبول ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا بنیادی فریضہ ہے کہ ہم اردو زبان و ادب کو فروغ دیں اور ہندوستان کی اس مشترکہ تہذیب کی زبان کی ترویج و اشاعت اورفروغ کے لئے سنجیدہ ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ مستعدی کے ساتھ اردو زبان کے فروغ کے لئے کام کرتی رہے گی۔انہوں نے جشنِ ٓزادی کے موقع پر اس شاندار انعقاد کے لئے اردو اکادمی اور اس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر راحت ابرار کو دلی مبارکباد پیش کی۔وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ اور ان کی اہلیہ محترمہ صبیحہ سیمی شاہ نے شاعروں اور شاعرات کو شال پہناکر ان کی عزت افزائی فرمائی۔ملک بھر سے تشریف لائے شعرائے کرام کا استقبال کرتے ہوئے کنوینر مشاعرہ ڈاکٹر راحت ابرار نے کہا کہ اس عظیم دانش گاہ کے بانی سرسید احمد خاں نے1857 کے انقلاب پر اسباب بغاوتِ ہند لکھ کر ہندوستان میں ایک جمہوری نظامِ حکومت کی داغ بیل ڈالنے کی پہل کی اور اس طرح سرسید غلامی کو لعنت اور آزادی کو نعمت تصور کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ فرزندانِ علی گڑھ نے اپنی نظموں، غزلوں اور تحریروں سے عوام کے دلوں میں آزادی کا جوش پیدا کیا۔ مکمل سوراجیہ کا نعرہ اسی ادارہ کے ایک نامور فرزند مولانا حسرت موہانی نے لگایا۔ راجہ مہیندر پرتاپ نے کابل میں جلا وطنی کی حکومت قائم کی۔ غرض کہ ملک کو آزاد کرانے میں طلبائے علی گڑھ نے کلیدی کرداراداکیا۔ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بغیر نا مکمل ہے۔عذرا نقوی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جشنِ آزادی کے حوالے سے خوبصورت نظمیں سنائیں جبکہ زویا زیدی نے اپنی نظم ’احساس کے رنگ‘ پیش کی۔


Share: